EntertainmentTrending NEWSWorld

“Butterfly Tastes with Feet”

تتلیاں اپنے مسحور کن رنگوں اور خوبصورتی کی وجہ سے دنیا بھر میں پسند کی جاتی ہیں، لیکن ان کا حیاتیاتی نظام انتہائی حیرت انگیز اور انوکھا ہے۔ عام جانداروں کے برعکس، تتلیاں کسی بھی پھول، پھل یا چیز کا ذائقہ چکھنے کے لیے اپنے منہ کا نہیں بلکہ اپنے پیروں کا استعمال کرتی ہیں۔ ان کے پیروں کے نچلے حصے پر خاص قسم کے حسی خلیات پائے جاتے ہیں، جو انسان کی زبان پر موجود ‘ٹیسٹ بڈز’ کی طرح کام کرتے ہیں۔ جب ایک تتلی کسی پودے یا پتے پر بیٹھتی ہے، تو اس کے پیروں میں موجود یہ سینسرز پودے کے کیمیکلز اور رس کو فوراً محسوس کر لیتے ہیں اور تتلی کو پتہ چل جاتا ہے کہ یہ چیز کھانے کے قابل ہے یا نہیں۔
یہ انوکھا نظام نہ صرف ان کے پیٹ بھرنے کے کام آتا ہے، بلکہ ان کی نسل کی بقا کے لیے بھی سب سے اہم ہتھیار ہے۔ مادہ تتلی جب انڈے دینے کے لیے کسی پودے کا انتخاب کرتی ہے، تو وہ پتے پر بیٹھ کر اپنے پیروں سے اسے تھپتھپاتی ہے تاکہ یہ جان سکے کہ آیا یہ پودا اس کے پیدا ہونے والے بچوں کے لیے محفوظ اور غذائیت سے بھرپور ہے یا نہیں۔
پتے کا ذائقہ درست ہونے پر ہی وہ وہاں انڈے دیتی ہے۔ ایک بار جب پیروں کے ذریعے کھانے کی تصدیق ہو جائے، تو تتلی اپنے منہ سے ایک لمبی، اسٹروا جیسی نالی نکالتی ہے جسے پروبوسس کہا جاتا ہے، اور اس کی مدد سے پھولوں کا میٹھا رس چوستی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *