“140 Years of the Postojna Cave Railway”
سلووینیا کی پوسٹوجنا غار، دنیا کے سب سے بڑے اور سحر انگیز ترین غاروں کے نظاموں میں سے ایک ہے، جسے قدرت نے لاکھوں سالوں کے دوران پِیوکا دریا کے پانی کے کٹاؤ سے تراشا ہے۔ اس غار کی سب سے منفرد اور حیران کن خصوصیت یہ ہے کہ یہ اتنی وسیع ہے کہ اس کے اندر دنیا کا پہلا اور واحد زیرِ زمین ڈبل ٹریک ریلوے نظام بچھا ہوا ہے۔
یہاں تقریباً 140 سال سے زائد عرصے سے سیاحوں کو ایک چھوٹی الیکٹرک ٹرین کے ذریعے غار کے اندرونی حصوں کی سیر کروائی جا رہی ہے، جو انہیں چونا پتھر سے بنے قدرتی ستونوں کی طلسماتی دنیا میں لے جاتی ہے۔ غار کے اندر کا درجہ حرارت سارا سال تقریباً 8 سے 10 ڈگری سیلسیس کے درمیان مستقل رہتا ہے، اور اس کا ‘مرکزی ہال’ اتنا بڑا ہے کہ وہاں باقاعدہ موسیقی کے کنسرٹس منعقد کیے جاتے ہیں جس میں ہزاروں افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہوتی ہے۔
پوسٹوجنا غار صرف اپنے ریلوے ٹریک کی وجہ سے ہی مشہور نہیں، بلکہ یہ ایک انتہائی نایاب اور عجیب و غریب حیاتیاتی دنیا کا مسکن بھی ہے، جس میں سب سے نمایاں اندھے اولمس نامی جاندار ہیں۔ مقامی طور پر ‘انسانی مچھلی’ کہلانے والا یہ جاندار دراصل ایک اندھا جل تھلیہ ہے جو صرف اس غار کے اندھیرے اور ٹھنڈے پانیوں میں پایا جاتا ہے۔
چونکہ غار کے اندر بالکل اندھیرا ہوتا ہے، اس لیے ارتقائی مراحل کے دوران ان کی آنکھیں ختم ہو گئیں اور ان کی جلد کا رنگ انسانوں جیسا ہو گیا، لیکن ان کی سننے اور سونگھنے کی حسیں ناقابلِ یقین حد تک تیز ہیں۔ اولمس کی سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ بغیر کچھ کھائے پیے 10 سال تک زندہ رہ سکتے ہیں اور ان کی عمر 100 سال تک ہو سکتی ہے۔ یہ غار دنیا میں زیرِ زمین حیاتیاتی تنوع کا سب سے بڑا مرکز مانی جاتی ہے۔
