“Meet the Pika: Nature’s Haymaker”
پیکا دوسرے پہاڑی جانداروں کی طرح سردیوں میں لمبی نیند نہیں سوتا، بلکہ یہ پورے موسمِ سرما میں متحرک رہتا ہے۔ سردیوں میں جب پہاڑ برف سے ڈھک جاتے ہیں اور خوراک ملنا ناممکن ہو جاتا ہے، تو پیکا اپنی بقا کے لیے گرمیوں کے موسم میں ہی دن رات محنت شروع کر دیتا ہے۔ یہ پہاڑی پودوں، پھولوں اور ہری گھاس کو توڑ کر لاتا ہے اور انہیں چٹانوں کے اوپر دھوپ میں بالکل اسی طرح سکھاتا ہے جیسے کسان چارہ سکھاتے ہیں۔
گھاس جب اچھی طرح سوکھ جاتی ہے اور اس میں پھپھوندی لگنے کا خطرہ ختم ہو جاتا ہے، تو یہ اسے چٹانوں کے نیچے بنے اپنے محفوظ بلوں اور گھروں میں جمع کر لیتا ہے تاکہ سردیوں کے سخت مہینے آرام سے گزار سکے۔
یہ چھوٹا سا جاندار انتہائی سرد ماحول میں رہنے کا عادی ہے اور زیادہ گرمی برداشت نہیں کر سکتا۔ ان کے جسم کی بناوٹ اور گھنے پر انہیں مائنس ڈگری درجہ حرارت میں بھی گرم رکھتے ہیں، لیکن اگر درجہ حرارت چند گھنٹوں کے لیے بھی 25 ڈگری سیلسیس سے اوپر چلا جائے تو یہ گرمی کی تاب نہ لاتے ہوئے مر سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیاں اس معصوم جاندار کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہیں، اور یہ زندہ رہنے کے لیے پہاڑوں میں مزید بلندی کی طرف ہجرت کر رہے ہیں۔
یہ جاندار سائز میں چھوٹے ہونے کے باوجود پہاڑی ماحولیاتی نظام کے لیے بہت اہم ہیں کیونکہ یہ دوسرے بڑے شکاری جانوروں کی خوراک کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔
