“Ancient Engineering: The Earthquake-Resistant Wooden Palace”
شہرِ ممنوعہ کے زلزلوں سے محفوظ رہنے کا سب سے بڑا راز ایک قدیم چینی تکنیک ہے جسے ‘ڈوگونگ’ کہا جاتا ہے۔ اس تکنیک میں لکڑی کے مخصوص بریکٹس اور جوڑوں کو بغیر کسی کیل یا گوند کے، بالکل ایک پہیلی کی طرح آپس میں اس طرح پھنسایا جاتا ہے کہ وہ ایک لچکدار اور مضبوط ڈھانچہ بناتے ہیں۔
جب بھی کوئی شدید زلزلہ آتا ہے، تو یہ لکڑی کے جوڑے سخت رہنے کے بجائے ہلکے سے ہلتے ہیں اور زلزلے کی تباہ کن توانائی کو اپنے اندر جذب کر کے پورے محل میں پھیلا دیتے ہیں۔ یہ لچکدار لکڑی کا نظام عمارت کو ٹوٹنے یا گرنے نہیں دیتا، بلکہ اسے ایک ایسی لچک فراہم کرتا ہے کہ شدید جھٹکوں کے بعد بھی محل اپنی اصل جگہ پر واپس آ جاتا ہے۔
محل کی بھاری بھرکم اور خوبصورت لکڑی کی چھتیں بھی اس توازن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ وزنی چھتیں نیچے موجود ‘ڈوگونگ’ جوڑوں پر مسلسل دباؤ برقرار رکھتی ہیں، جس کی وجہ سے زلزلے کے دوران بھی یہ جوڑے اپنی جگہ سے الگ نہیں ہوتے۔ اس کے علاوہ، اس محل کے عظیم ستون زمین کے اندر گہرے دھنسے ہوئے نہیں ہیں، بلکہ وہ سنگِ مرمر کے چبوتروں پر صرف رکھے ہوئے ہیں۔
زلزلہ آنے کی صورت میں یہ ستون زمین کے ساتھ ہلنے کے بجائے چبوترے پر ہلکا سا پھسلتے ہیں، جس سے زمین کی لرزش کا اثر عمارت کے اوپری حصے تک نہیں پہنچ پاتا۔ یہی وجہ ہے کہ جب بیجنگ میں تاریخ کا سب سے ہلا دینے والا 9.5 شدت کا زلزلہ آیا، تو اس محل کی دیواریں تو گر گئیں مگر اس کا لکڑی کا اصل ڈھانچہ بالکل محفوظ رہا۔
