EntertainmentTrending NEWSWorld

“52 Years Deserted: The Ghost City”

جاپان کا ہاشیما جزیرہ، جسے اپنی منفرد شکل کے باعث ’’گونکانجیما‘‘ بھی کہا جاتا ہے، کبھی دنیا کے گنجان آباد علاقوں میں شمار ہوتا تھا، تاہم آج یہ مکمل طور پر ویران اور ایک پراسرار بھوتوں کے شہر میں تبدیل ہو چکا ہے۔ 1890ء میں مٹسوبشی کمپنی نے سمندر کے نیچے سے کوئلہ نکالنے کے لیے اس جزیرے کو خرید لیا، جس کے بعد یہاں اسکول، ہسپتال، دکانیں اور بلند و بالا کنکریٹ کی رہائشی عمارتیں تعمیر کی گئیں۔ 1959ء تک اس چھوٹے سے جزیرے پر 5 ہزار سے زائد افراد آباد ہوچکے تھے۔
تاہم جاپان میں کوئلے کی جگہ پٹرولیم کے استعمال میں اضافے کے باعث مٹسوبشی نے 1974ء میں جزیرے کی کوئلے کی کانیں بند کردیں۔ کانوں کی بندش کے ساتھ ہی رہائشی بھی جزیرہ چھوڑ کر چلے گئے اور کبھی آباد رہنے والا یہ علاقہ اچانک سنسان ہوگیا۔
آج بھی جزیرے پر کئی مکانات، پرانا فرنیچر اور دیگر اشیا موجود ہیں، جبکہ سمندری ہواؤں اور وقت کے اثرات نے یہاں کی عمارتوں کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا ہے۔ پراسرار اور ویران ماحول کے باعث ہاشیما جزیرہ دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ 2015ء میں ہاشیما جزیرے کو جاپان کے ’’میزوشیما صنعتی انقلاب کے مقامات‘‘ کے حصے کے طور پر یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *