TechnologyTrending NEWSWorld

“Science Update: The Ultimate Pricetag of Antimatter”

اینٹی میٹرکائنات کا سب سے نایاب، پراسرار اور مہنگا ترین مادہ ہے، جس کے صرف ایک گرام کی قیمت 62.5 ٹریلین ڈالرز (تقریباً 62,500 ارب ڈالرز) لگائی گئی ہے۔ سائنسی لحاظ سے یہ عام مادے کا بالکل الٹ یا عکس ہے۔ جس طرح ہماری دنیا اور کائنات کی تمام چیزیں ایٹموں سے مل کر بنی ہیں جن میں پوزیٹو پروٹان اور نیگیٹو الیکٹران ہوتے ہیں،
اسی طرح اینٹی میٹر کے ایٹموں میں نیگیٹو پروٹان اور پوزیٹو الیکٹران ہوتے ہیں۔ یہ مادے کی ایک ایسی شکل ہے جو عام مادے سے ٹکراتے ہی سیکنڈ کے کروڑویں حصے میں سائنسی طور پر خود کو تباہ کر دیتی ہے۔ چونکہ ہماری پوری زمین عام مادے سے بنی ہے، اس لیے اینٹی میٹر کو یہاں محفوظ رکھنا تقریباً ناممکن ہے، کیونکہ یہ جس برتن، ہوا یا مٹی سے بھی چھو جائے گا، فوری طور پر ایک بھیانک دھماکے کے ساتھ ختم ہو جائے گا۔
اینٹی میٹر کی اتنی زیادہ قیمت ہونے کی وجہ اس کی تیاری کا انتہائی پیچیدہ، سست اور بے پناہ مہنگا عمل ہے۔ اس وقت دنیا میں انسانوں کے پاس اسے بنانے کی واحد جگہ جنیوا میں واقع ‘سرن’ لیبارٹری ہے، جہاں دنیا کے سب سے بڑے پارٹیکل ایکسیلیریٹر کے ذریعے اس کے چند ایٹم تیار کیے جاتے ہیں۔ اگر انسان اب تک بنائے گئے تمام اینٹی میٹر کو ایک جگہ جمع بھی کر لے، تو وہ ایک گرام کا بہت ہی معمولی حصہ ہوگا، کیونکہ اس کے صرف ایک گرام کو تیار کرنے میں صدیوں کا وقت اور دنیا کے کل بجٹ سے زیادہ رقم درکار ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *