“Freediving 200ft: The Amazing Bajau”
باجاؤ،قوم کے لوگ، جنہیں اکثر “سمندری خانہ بدوش” یا جادوئی مچھلی پکڑنے والے کہا جاتا ہے، ملائیشیا، انڈونیشیا اور فلپائن کے سمندری علاقوں میں صدیوں سے مقیم ہیں۔ یہ لوگ اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ کشتیوں پر یا سمندر کے اوپر لکڑی کے بنے مکانات میں گزارتے ہیں اور اپنی بقا کے لیے مکمل طور پر مچھلی کے شکار پر منحصر ہیں۔
ان کی سب سے حیرت انگیز صلاحیت پانی کے اندر بغیر کسی آکسیجن سلنڈر یا غوطہ خوری کے جدید آلات کے 13 منٹ تک سانس روک کر تقریباً 200 فٹ (60 میٹر) کی گہرائی تک چلے جانا ہے۔ یہ عام انسانوں کے لیے بالکل ناممکن ہے، کیونکہ اوسطاً ایک عام انسان پانی کے اندر صرف چند منٹ ہی سانس روک سکتا ہے۔ باجاؤ لوگوں کی یہ غیر معمولی صلاحیت محض سخت مشق کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ سائنسدانوں کے مطابق یہ ان کے جسم میں آنے والی ایک حیرت انگیز جینیاتی تبدیلی کا معجزہ ہے۔
سائنسی تحقیقات اور جینیاتی مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ صدیوں تک سمندری طرزِ زندگی گزارنے کی وجہ سے باجاؤ لوگوں کے ڈی این اے میں ایسی تبدیلیاں آچکی ہیں جو انہیں پانی کے اندر طویل وقت گزارنے میں مدد دیتی ہیں۔ سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ باجاؤ لوگوں کی تلی عام انسانوں کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد بڑی ہوتی ہے۔
