“The World Beyond Earth with Liquid Methane”
زحل کا سب سے بڑا چاند ‘ٹائٹن’ ہمارے نظامِ شمسی کے سب سے دلچسپ اور انوکھے اجسام میں سے ایک ہے، جس کی سطح پر زمین کی طرح جھیلیں، ندیاں اور سمندر موجود ہیں۔ تاہم، شدید ترین سردی (تقریباً منفی 179 ڈگری سیلسیس) کی وجہ سے یہاں پانی کا وجود مائع شکل میں ناممکن ہے، اس لیے ان جھیلوں میں پانی کی جگہ مائع میتھین اور ایتھین بہتی ہیں.
زمین پر یہ دونوں گیسیں قدرتی گیس کا بنیادی حصہ ہیں، لیکن ٹائٹن کے منفرد ماحول میں یہ مائع حالت میں پائی جاتی ہیں اور زمین کے پانی کی طرح پورا ایک نظریاتی چکر مکمل کرتی ہیں. یعنی ٹائٹن پر میتھین کے بادل بنتے ہیں، ان سے مائع گیس کی بارش ہوتی ہے جو پہاڑوں سے بہتی ہوئی جھیلوں اور سمندروں میں جمع ہو جاتی ہے.
امریکی خلائی ادارے ناسا کے کیسینی خلائی جہاز نے جب ٹائٹن کے گھنے غلاف کو چیر کر اس کی سطح کی رڈار تصاویر لیں، تو سائنسدان یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہاں زمین کی جھیلوں کی طرح گہرے اور پرسکون مائع کے ذخائر موجود ہیں، جن میں سے بعض سمندر تو زمین کی ‘کیسپین جھیل’ سے بھی بڑے ہیں. ٹائٹن کائنات کا واحد معلوم خلائی جسم ہے جہاں زمین کے علاوہ سطح پر مائع حالت میں مستقل جھیلیں موجود ہیں.
سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اگرچہ یہ جھیلیں عام زندگی کے لیے انتہائی زہریلی اور سرد ہیں، لیکن یہ ماحول زمین کی پیدائش کے ابتدائی دور سے بہت زیادہ مشابہت رکھتا ہے اور یہاں کسی ایسے غیر روایتی مائکروبئیل لائف یا جراثیم کا وجود ممکن ہو سکتا ہے جو پانی کے بجائے ہائیڈرو کاربنز پر زندہ رہتے ہوں
