EntertainmentTrending NEWSWorld

“Cosmic Mystery: The Unseen 85% of Space”

تاریک مادّہ، کائنات کا وہ سب سے بڑا اور پراسرار معمہ ہے جس نے جدید فلکیات اور فزکس کے ماہرین کو حیرت میں ڈال رکھا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق کائنات میں موجود تمام نظر آنے والی چیزیں—جیسے کہ اربوں کہکشائیں، تارے، سیارے، گیس کے بادل اور خود ہم انسان—مل کر کائنات کے کل مادّے کا صرف 15 فیصد حصہ بناتے ہیں، جبکہ باقی 85 فیصد حصہ اسی نادیدہ تاریک مادّے پر مشتمل ہے۔
اس کی سب سے عجیب بات یہ ہے کہ یہ عام مادّے کے برعکس روشنی یا کسی دوسری برقی مقناطیسی لہر کو نہ تو خارج کرتا ہے، نہ جذب کرتا ہے اور نہ ہی منعکس کرتا ہے، جس کی وجہ سے یہ کسی بھی روایتی یا جدید ترین دوربین سے بالکل نظر نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک دنیا کی کسی بھی لیبارٹری میں براہِ راست اس کا کوئی ذرہ یا سراغ نہیں پایا جا سکا۔
براہِ راست دکھائی نہ دینے کے باوجود سائنسدان اس کے کائنات میں موجود ہونے پر پختہ یقین رکھتے ہیں، جس کی وجہ اس کا ثقلی اثر ہے۔ جب ماہرینِ فلکیات کہکشاؤں کی گردش کی رفتار کا مطالعہ کرتے ہیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ کہکشائیں اتنی تیزی سے گھوم رہی ہیں کہ ان میں موجود نظر آنے والے مادّے کی کششِ ثقل انہیں آپس میں جوڑ کر رکھنے کے لیے کافی نہیں ہے؛ اگر کوئی اور نادیدہ طاقت موجود نہ ہو تو یہ کہکشائیں سیکنڈوں میں بکھر جائیں۔ تاریک مادّہ کائنات میں ایک ایسے پراسرار مکرانی جال کی طرح کام کر رہا ہے
جس نے اپنی زبردست کششِ ثقل کے ذریعے کہکشاؤں کو ایک دوسرے کے ساتھ باندھ رکھا ہے اور کائنات کے موجودہ ڈھانچے کو قائم رکھا ہوا ہے۔ اس وقت دنیا بھر کے سائنسدان زمین کے نیچے گہری سرنگوں میں اور خلائی دوربینوں کی مدد سے ایسے فرضی ذرات کی تلاش میں مصروف ہیں جو اس عظیم راز سے پردہ اٹھا سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *