“The Mystery of Naturally Formed Snow Bales”
برف کے رولرز قدرت کا ایک ایسا نادر اور حیرت انگیز شاہکار ہیں جہاں تیز ہوا برف کو خود بخود رول کر کے بالکل ایسے سلنڈرز کی شکل دے دیتی ہے جو دیکھنے میں انسان کے بنائے ہوئے لگتے ہیں۔ یہ منفرد منظر عام طور پر تب بنتا ہے جب زمین پر پہلے سے جمی ہوئی برف یا سبزی پر گلی برف کی ایک نئی تہہ گرتی ہے، اور درجہ حرارت نقطہ انجمادکے بالکل قریب ہوتا ہے۔
اس خاص درجہ حرارت پر برف نہ تو مکمل سخت ہوتی ہے اور نہ ہی پوری طرح پگھلتی ہے، بلکہ اس میں ایک چپکاہٹ ہوتی ہے۔ جب اس نازک موڑ پر تیز اور یکساں رفتار سے چلنے والی ہوائیں برف کی اس اوپری تہہ کو دھکیلتی ہیں، تو برف کا ایک ٹکڑا گول گھومنا شروع کر دیتا ہے۔ جیسے جیسے ہوا اسے آگے بڑھاتی ہے، یہ اپنے ساتھ مزید برف لپیٹتا چلا جاتا ہے اور ایک بڑا سلنڈر یا رولر بن جاتا ہے، جس کا درمیانی حصہ اکثر ہوا کے دباؤ کی وجہ سے خالی یا کھوکھلا رہ جاتا ہے۔
یہ قدرتی رولرز سائز میں ایک چھوٹے انڈے سے لے کر ایک بڑے تکیے یا بیرل جتنے ہو سکتے ہیں، اور ان کے پیچھے برف پر بننے والے لمبے ٹریکس ان کے سفر کی داستان بیان کرتے ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ رجحان انتہائی نایاب ہے کیونکہ اس کے ظہور پذیر ہونے کے لیے موسم کی کئی شرائط کا ایک ہی وقت پر پورا ہونا ضروری ہوتا ہے۔
اگر ہوا بہت تیز ہو تو وہ برف کے ان نازک رولز کو بنا کر خود ہی توڑ دیتی ہے، اور اگر ہوا دھیمی ہو تو وہ برف کو حرکت ہی نہیں دے پاتی۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی دنیا کے کسی حصے میں یہ قدرتی برفانی رولرز نمودار ہوتے ہیں، تو وہ نہ صرف دیکھنے والوں کو حیرت زدہ کر دیتے ہیں بلکہ ایسا لگتا ہے جیسے کسی نے سفید قالین کو نہایت نفاست سے گول کر کے برفانی میدان میں بکھیر دیا ہو۔
