Trending NEWSWorld

“Auto Sector Alert: Import of Used Cars Risks Mass Job Losses”

“Auto Sector Alert: Import of Used Cars Risks Mass Job Losses”

پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز (PAAPAM) نے استعمال شدہ گاڑیوں کی تجارتی درآمد سے متعلق نئے قواعد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق، انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (EDB) کے 30 ستمبر 2026 کے نوٹیفکیشن کے تحت کاروباری اداروں کو بورڈ کے لائسنس کے بغیر استعمال شدہ گاڑیاں تجارتی بنیادوں پر درآمد کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ PAAPAM کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے پاکستان میں آٹو پارٹس بنانے والے مقامی اداروں اور ان سے وابستہ روزگار پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

ایسوسی ایشن، جو ایک ہزار 200 سے زائد ٹئیر ون اور ٹئیر ٹو مینوفیکچررز کی نمائندگی کرتی ہے، کے مطابق اس فیصلے سے تین لاکھ براہِ راست اور 15 لاکھ بالواسطہ ملازمتیں متاثر ہوسکتی ہیں۔ PAAPAM نے فروخت کے بعد سروس اور اسپیئر پارٹس کی دستیابی سے متعلق شرائط ختم کرنے پر بھی تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ اس سے صارفین کی حفاظت اور مقامی صنعت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ PAAPAM نے مجوزہ ٹیرف تبدیلیوں پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ نئے قواعد کا ازسرِنو جائزہ لے اور مقامی صنعت، صارفین کے مفادات اور روزگار کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *