EntertainmentTrending NEWSWorld

“Giza’s Built-in Air Conditioning”[cite: 10]

مصر کے شہر قاہرہ میں واقع احرامِ مصر قدیم انجینئرنگ اور آرکیٹیکچر کا ایک ایسا حیرت انگیز شاہکار ہیں جن کے اندر کا درجہ حرارت باہر کی شدید ترین گرمی (جو اکثر 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے) کے باوجود ہمیشہ مستقل 20 ڈگری سینٹی گریڈ (68 ڈگری فارن ہائیٹ) پر برقرار رہتا ہے۔
یہ درجہ حرارت زمین کے اوسط درجہ حرارت کے برابر ہے اور انسان کے لیے انتہائی آرام دہ مانا جاتا ہے۔ ہزاروں سال پہلے بغیر کسی جدید ٹیکنالوجی یا ائیر کنڈیشننگ سسٹم کے، قدیم مصریوں نے ان عظیم الشان ڈھانچوں کو اس طرح ڈیزائن کیا کہ یہ قدرتی طور پر تھرمل کنٹرول یعنی درجہ حرارت کو متوازن رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس حیرت انگیز خصوصیت کی سب سے بڑی وجہ ان احراموں کی تیاری میں استعمال ہونے والا مٹیریل اور ان کی مخصوص بناوٹ ہے۔ یہ احرام چونا پتھر کے لاکھوں وزنی اور بھاری بلاکس سے تعمیر کیے گئے ہیں، جو گرمی کے بہترین موصل کے طور پر کام کرتے ہیں۔ دن کے وقت جب سورج کی تیز شعاعیں احرام کے بیرونی حصے پر پڑتی ہیں، تو یہ موٹے پتھر گرمی کو اندرونی چیمبرز تک پہنچنے سے روکتے ہیں اور رات کے وقت جب صحرا کا درجہ حرارت اچانک گر جاتا ہے، تو یہی پتھر دن بھر کی جذب شدہ ہلکی گرمی کو اندرونی حصوں میں چھوڑتے ہیں جس سے درجہ حرارت متوازن رہتا ہے۔ اس کے علاوہ احراموں کے اندرونی حصوں میں ہوا کی آمدورفت کے لیے بنائے گئے مخصوص اور تنگ راستے ایک قدرتی وینٹیلیشن سسٹم کا کام کرتے ہیں، جو اندرونی فضا کو ہمیشہ تازہ اور ٹھنڈا رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *