“Sunken Ancient City Discovered in Mediterranean”
ہیلوینگا، جسے قدیم مصری زبان میں تھونس بھی کہا جاتا ہے، بحیرہ روم کی گہرائیوں میں چھپا ایک ایسا تاریخی معجزہ ہے جسے صدیوں تک صرف یونانی کتابوں کا ایک افسانہ یا کہانی سمجھا جاتا تھا۔ یہ قدیم مصر کا ایک انتہائی عظیم الشان اور مصروف ترین تجارتی بندرگاہ والا شہر تھا، جہاں سے فرعونوں کی سلطنت میں داخل ہونے والے تمام غیر ملکی جہازوں کا نظام چلایا جاتا تھا۔ یہ شہر مذہبی اور معاشی طور پر اس قدر اہم تھا کہ یہاں یونانی دیوتا ہرکیولس اور مصری دیوتا آمون کے عظیم الشان مندر قائم تھے۔ لیکن آج سے تقریباً 1200 سال پہلے، آٹھویں صدی عیسوی میں، یہ پورا شہر اچانک سمندر برد ہو گیا، اور دیکھتے ہی دیکھتے تاریخ کے صفحات سے اس کا نام و نشان مٹ گیا۔
صدیوں کی خاموشی کے بعد، سنہ 2000 میں فرانسیسی ماہرِ آثارِ قدیمہ فرانک گوڈیواور ان کی ٹیم نے بحیرہ روم میں اسکندریہ کے ساحل سے کچھ دوری پر، زیرِ زمین تلاشی کے دوران اس گمشدہ شہر کو دوبارہ دریافت کر کے پوری دنیا کو دنگ کر دیا۔ سمندر کی تہہ میں دَب جانے کی وجہ سے یہ شہر صدیوں تک انسانی دست برد سے محفوظ رہا، جس کی بدولت یہاں سے 16 فٹ بلند دیوہیکل شاہی مجسمے، مندروں کے ستون، سونے کے سکے، مٹی کے برتن، اور فرعونوں کے دور کے درجنوں بحری جہاز بالکل محفوظ حالت میں ملے۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ مٹی کے کٹاؤ، شدید زلزلوں اور سونامی جیسی قدرتی آفات کی وجہ سے وہ زمین جس پر یہ شہر آباد تھا، اچانک مائع میں تبدیل ہو گئی اور پورا شہر آرام سے سمندر کی گہرائیوں میں جا گرا۔
