“The Amazing Octopus”
آکٹوپس سمندر کی گہرائیوں میں پایا جانے والا ایک انتہائی ذہین، پراسرار اور حیاتیاتی طور پر انوکھا جاندار ہے، جس کا جسمانی نظام عام زمینی مخلوقات سے بالکل مختلف ہے۔ اس کی سب سے حیرت انگیز خصوصیت یہ ہے کہ اس کے پاس تین فعال دل اور نو دماغ ہوتے ہیں۔ ان تین دلوں میں سے ایک مرکزی دل کہلاتا ہے، جو آکٹوپس کے پورے جسم اور اعضاء کو خون پہنچانے کا کام کرتا ہے۔
جبکہ باقی دو دلوں کو برینکیل دل کہا جاتا ہے، جو خصوصی طور پر اس کے گِلز (گلپھڑوں) کو خون سپلائی کرتے ہیں تاکہ وہ پانی کے اندر آکسیجن حاصل کر سکے۔ جب آکٹوپس سمندر میں تیزی سے تیرتا ہے، تو اس کا مرکزی دل دھڑکنا بند کر دیتا ہے، جس کی وجہ سے وہ بہت جلدی تھک جاتا ہے؛ یہی وجہ ہے کہ وہ تیرنے کے بجائے سمندری سطح پر رینگنے کو ترجیح دیتا ہے۔
اس کے خون کا رنگ لال ہونے کے بجائے گہرا نیلا ہوتا ہے، جس کی وجہ اس کے جسم میں پایا جانے والا ایک خاص پروٹین ہیموسیانین ہے۔ عام جانداروں کے خون میں آکسیجن کی منتقلی کے لیے آئرن (لوہا) پایا جاتا ہے جس سے خون کا رنگ سرخ ہوتا ہے، لیکن آکٹوپس کے خون میں تانبا پایا جاتا ہے، جو شدید ٹھنڈے پانی اور آکسیجن کی کمی والے گہرے سمندری ماحول میں بھی اس کی بقا کو ممکن بناتا ہے۔
نو دماغوں کی بات کی جائے تو آکٹوپس کا ایک مرکزی دماغ اس کے سر میں ہوتا ہے، جبکہ باقی آٹھ چھوٹے دماغ اس کے آٹھوں بازوؤں میں موجود ہوتے ہیں۔ اس کا ہر بازو اپنے الگ دماغ کی وجہ سے مرکزی دماغ کے حکم کے بغیر بھی آزادانہ طور پر چیزوں کو چھونے، چکھنے اور حرکت کرنے کا فیصلہ کر سکتا ہے، جو اسے دنیا کا ایک بہترین اور نایاب ترین شکاری بناتا ہے۔
