“Terracotta Army of China”
چین کے صوبے شانسی کے شہر ژیان میں واقع ٹیراکوٹا آرمی (مٹی کے سپاہی) دنیا کی تاریخ کے عظیم ترین اور حیرت انگیز ترین آثارِ قدیمہ میں شمار ہوتی ہے۔ یہ عظیم الشان فوج چین کے پہلے شہنشاہ ‘چن شی ہوانگ’ کے مقبرے کی حفاظت کے لیے تیسری صدی قبل مسیح (تقریباً 210-209 قبل مسیح) میں بنائی گئی تھی۔ شہنشاہ کا ماننا تھا کہ یہ مٹی کی فوج موت کے بعد کی زندگی میں بھی اس کی سلطنت اور اقتدار کا تحفظ کرے گی۔
اس تاریخی خزانے کو سنہ 1974ء میں مقامی کسانوں نے اس وقت اتفاقاً دریافت کیا جب وہ ایک کنواں کھود رہے تھے۔ ٹیراکوٹا آرمی کی سب سے سحر انگیز خصوصیت یہ ہے کہ اس میں موجود 8,000 سے زائد سپاہیوں، 130 رتھوں، اور 520 گھوڑوں میں سے ہر ایک کا چہرہ، قد، تاثرات، بالوں کا انداز اور لباس دوسرے سے بالکل مختلف ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں بنانے کے لیے اس دور کے حقیقی فوجیوں کو نمونے کے طور پر سامنے بٹھایا گیا تھا۔ ان کی اسی بے مثال تاریخی اور ثقافتی اہمیت کے باعث یونیسکو نے 1987ء میں اسے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا۔
تین بڑے زیرِ زمین گڑھوں میں پھیلی اس فوج کی تیاری میں قدیم چینی کاریگروں کی مہارت اپنے عروج پر نظر آتی ہے۔ دریافت کے وقت ماہرینِ آثارِ قدیمہ یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے کہ سپاہیوں کے ہاتھوں میں موجود اصل کانسی کے ہتھیار (جیسے تلواریں، نیزے اور تیر کمان) پر زنگ کی ایک لکیر تک نہیں تھی، کیونکہ ان پر کرومیم کی ایک جدید حفاظتی تہہ چڑھائی گئی تھی جو اس دور کی حیرت انگیز ٹیکنالوجی کا ثبوت ہے۔ اصل میں یہ تمام سپاہی انتہائی چمکدار اور خوبصورت رنگوں سے رنگے ہوئے تھے، لیکن صدیوں تک دفن رہنے اور پھر اچانک ہوا کے رابطے میں آنے کی وجہ سے ان کا رنگ محض چند منٹوں میں اڑ گیا.
جس کے بعد اب ماہرین انتہائی جدید سائنسی طریقوں سے ان کے باقی ماندہ رنگوں کو محفوظ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ مقبرہ ابھی تک مکمل طور پر نہیں کھودا جا سکا، کیونکہ شہنشاہ کا اصل مزار ایک عظیم پہاڑی کے نیچے پوشیدہ ہے اور قدیم تاریخی حوالوں کے مطابق اس مزار کے گرد پارے کے دریا بہائے گئے ہیں، جس کی تصدیق مٹی میں پارے کی اعلیٰ مقدار سے بھی ہو چکی ہے
